بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں
کلام: وزیر آغا
بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوںبدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں
صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائےفلک پر گرجتا ہوا گرم بادل
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوںبدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں
صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائےفلک پر گرجتا ہوا گرم بادل
بدّل باہجھ ہواکس کم دی
دِیوے باہجھ دِیوالیرانجھن باہجھوں بیلے سُنجے