6 اشعار

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

Woh din gaye ke chhup ke sar-e-baam aayenge

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

«وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گےآنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے

سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھیکوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے

اس نخل نا مراد سے جو پات جھڑ گئےاندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے

آنسو ستارے اوس کے دانے سفید پھولسب میرے غم گسار سر شام آئیں گے

رکھ تو انہیں بچا کے کسی اور کے لیےیہ قول یہ قرار ترے کام آئیں گے

لوٹے اگر سفر سے کبھی ہم تو ڈر نہیںصورت بدل کے آئیں گے بے نام آئیں گے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں