7 اشعار

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا

Din dhal chuka tha aur parinda safar mein tha

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا

«دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھاسارا لہو بدن کا رواں مشت پر میں تھا

جاتے کہاں کہ رات کی بانہیں تھیں مشتعلچھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا

حد افق پہ شام تھی خیمے میں منتظرآنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا

لو وہ بھی خشک ریت کے ٹیلے میں ڈھل گیاکل تک جو ایک کوہ گراں رہ گزر میں تھا

اترا تھا وحشی چڑیوں کا لشکر زمین پرپھر اک بھی سبز پات نہ سارے نگر میں تھا

پاگل سی اک صدا کسی اجڑے مکاں میں تھیکھڑکی میں اک چراغ بھری‌ دوپہر میں تھا

اس کا بدن تھا خوف کی حدت سے شعلہ وشسورج کا اک گلاب سا طشت سحر میں تھا

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں