بے زباں کلیوں کا دل میلہ کیا
کلام: وزیر آغا
بے زباں کلیوں کا دل میلا کیااے ہوائے صبح تو نے کیا کیا
کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبابوئے گل کو شہر میں رسوا کیا
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
بے زباں کلیوں کا دل میلا کیااے ہوائے صبح تو نے کیا کیا
کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبابوئے گل کو شہر میں رسوا کیا
دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھاسارا لہو بدن کا رواں مشت پر میں تھا
جاتے کہاں کہ رات کی بانہیں تھیں مشتعلچھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا