7 اشعار

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

Thi neend meri magar us mein khwab uska tha

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

«تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے روح من نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھابدن مرا تھا بدن میں عذاب اس کا تھا

سفینے چند خوشی کے ضرور اپنے تھےمگر وہ سیل غم بے حساب اس کا تھا

دئیے بجھے تو ہوا کو کیا گیا بد نامقصور ہم نے کیا احتساب اس کا تھا

یہ کس حساب سے کی تو نے روشنی تقسیمستارے مجھ کو ملے ماہتاب اس کا تھا

فلک پہ کرچیاں آنکھوں میں موتیا آنسوجو ریزہ ریزہ ہوا آفتاب اس کا تھا

مری ذرا سی چمک کو کڑک نے ٹوک دیاسوال تجھ سے کیا تھا جواب اس کا تھا

کھلی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میریکتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں