12 اشعار

اس کے دشمن

Uske dushman

اس کے دشمن

«اس کے دشمن» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

سحر ہوئی تو کسی نے اٹھ کرلہو میں تر ایک سرخ بوٹی

بڑی کراہت سےآسماں کے فراخ آنگن میں پھینک دی اور

طویل متلی کی جان لیوا سی کیفیت سے نجات پائیمگر فلک کے فراخ آنگن میں

بادلوں کے سفید سگ اس کے منتظر تھےجھپٹ پڑے اس لہو میں تر دل کے لوتھڑے پر

جھپٹ پڑے ایک دوسرے پرزمین کے لوگوں نے دیر تک یہ لڑائی دیکھی

سفید کتوں کے سرخ جبڑےلہو میں تر ایک لال ٹکڑا دریدہ سورج

حریص گراتے بادلوں کا طویل گہرا مہیب دکھڑامری زمیں بھی تو گوشت کا لوتھڑا تھی جس کو

کسی نے اندھے خلا میں پھینکامگر نہ کوئی بھی اس پہ جھپٹا

تب اس کے اندر سے آئے باہراسی کے دشمن

اسی کی بو پرہزاروں خونخوار تند کتے

حریص جبڑےاور اب دریدہ زمین ساری

ٹپکتے گرتے لہو کے قطروں میں رس رہی ہےخود اپنے خونخوار تند بچوں کے تیز جبڑوں میں پس رہی ہے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں