8 اشعار

زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے

Zakhm kha kha ke sambhalna koi hum se seekhe

زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے

«زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھےآئے، تلوار پہ چلنا کوئی ہم سے سیکھے

اپنی منزل تو ہے گر کے سنبھلنا اے دوستاور گر گر کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے

درد کھنچک آئے لبِ زیست پہ نغمہ بن کراُس طرح دردمیں ڈھلنا کوئی ہم سے سیکھے

نازشِ شوق ہیں ہم، سوختہ سامانِ بہارپھول کی آنچ سے جلنا کوئی ہم سے سیکھے

ذرے ذرے میں سمانا تو ہے آسان مگرموجِ مئے بن کے اُبَلنا کوئی ہم سے سیکھے

راہ پرخار پہ چلنے کو سبھی چلتے ہیںمسکراتے ہوئے چلنا کوئی ہم سے سیکھے

اُجنبی بن کے کسی بزم میں داخل ہوناآشنا ہو کے نکلنا کوئی ہم سے سیکھے

تیرگی سربگریباں ہے اَجالوں کی قسمروشنی کے لیے جلنا کوئی ہم سے سیکھے

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں