7 اشعار

دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے

Dekhega woh, dikhayega bhi, kya karein use

دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے

«دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسےوہ آئینہ ہے کس طرح اندھا کریں اُسے

بستی کو ہم جو چاند ستارے نہ سونپ پائیںمِٹی کا ایک دِیاہی مہیا کریں اُسے

ہر پَل ہے ایک منظرِدیگرنِگاہ میںہاں جی تو چہاتا ہے کہ دیکھا کریں اسے

وہ جاں کا ہے رقیب تو گھر سے نکال دیں اسےغم جی نہ پائے، یوں بھی تنہا کریں اسے

ہم جستجو میں گم رہیں اُس کی،یہ اپنی دُھناُس کو بھی اِس میں لُطف کہ ڈُھونڈا کریں اُسے

اپنے سِوا کوئی نہ اسے اور دیکھ پائےآتا ہو یہ ہنر تو تماشا کریں اُسے

اس کی ہَوا میں آکے ظفر لوٹ پائیں گے؟اِک حد کے بعد اور سوچا نہ کریں اُسے

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں