دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں
کلام: ظفرگورکھپوری
دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میںسایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں
غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گاکچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میںسایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں
غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گاکچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں
اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کاابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا
اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنادشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا