9 اشعار

جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو

Junoon ke marhale tum ne dikha diye mujh ko

جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو

«جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو» ظفرگورکھپوری کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کوغُبار لے کے نہ جانے کِدھر گیا ہوتا

بُلا رہی تھی مجھے گارگاہ ِشیشہ گراںمیں اپنے شعلے کو نیلام کر گیا ہوتا

ہوئی یہ خیر کہ احساس بن گیا تیشہمیں غم کے کوہ سے ٹکرا گیا ہوتا

فراق ووصل کی مُردہ حکایتیں لے کردیارِ حُسن میں آشفتہ سَر گیا ہوتا

نئی بہار کے چہرے پہ ڈال کر پردہکلی کلی کی نظر سے اُتر گیا ہوتا

میں سادہ لوح مُسافر کسی کی زُلف تلےرہ ِحیات میں تھک کر ٹھہر گیا ہوتا

نفس کی آگ، رگوں کی حسین چنگارییہ موتیوں کا خزانہ بکھر گیاہوتا

جہاں کی نبض شناسی تو خیردُوررہیمیں اپنے پاس ہو کرگُزرگیاہوتا

مُجھےیقین ہے کیفیؔ جو تم جاتےشعورگُھٹ کے اندھیروں میں مر گیا ہوتا

— ظفرگورکھپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں