جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو
کلام: ظفرگورکھپوری
جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کوغُبار لے کے نہ جانے کِدھر گیا ہوتا
بُلا رہی تھی مجھے گارگاہ ِشیشہ گراںمیں اپنے شعلے کو نیلام کر گیا ہوتا
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کوغُبار لے کے نہ جانے کِدھر گیا ہوتا
بُلا رہی تھی مجھے گارگاہ ِشیشہ گراںمیں اپنے شعلے کو نیلام کر گیا ہوتا
زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھےآئے، تلوار پہ چلنا کوئی ہم سے سیکھے
اپنی منزل تو ہے گر کے سنبھلنا اے دوستاور گر گر کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے
میں بولا کھو دیا مجھ کووہ بولی زندگی ہی تھے
میں بولا کچھ نہیں تھا میں؟وہ بولی ہر خوشی ہی تھے