9 اشعار

آتش و انجماد ہے مجھ میں

Atish o injimad hai mujh mein

آتش و انجماد ہے مجھ میں

«آتش و انجماد ہے مجھ میں» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

آتش و انجماد ہے مجھ میںکیسا کیسا تضاد ہے مجھ میں

خواب سے پہلے کچھ نہیں یکسرجو بھی ہے اس کے بعد ہے مجھ میں

زخم کھلتے ہیں سانس گھٹتی ہےایسی بست و کشاد ہے مجھ میں

رنج دل ہے ہرا بھرا اب تککوئی تو ہے جو شاد ہے مجھ میں

دشمنی کا ہی رہ گیا سروکارورنہ کس کا مفاد ہے مجھ میں

کوئی اس کا سبب نہیں تو ہییہ جو اتنا فساد ہے مجھ میں

کوئی جلسہ ہے زور کا جیسےجس کا یہ انعقاد ہے مجھ میں

جسے اب تک تلاش کرتا ہوںگم شدہ ایک یاد ہے مجھ میں

آندھیاں سی جو چل رہی ہیں ظفرؔصورت خاک و باد ہے مجھ میں

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں