5 اشعار

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا

Bewafai kar ke niklun ya wafa kar jaaun ga

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا

«بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گاشہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گا

تو بھی ڈھونڈے گا مجھے شوق سزا میں ایک دنمیں بھی کوئی خوبصورت سی خطا کر جاؤں گا

مجھ سے اچھائی بھی نہ کر میری مرضی کے خلافورنہ میں بھی ہاتھ کوئی دوسرا کر جاؤں گا

مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدرمیں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا

شور ہے اس گھر کے آنگن میں ظفرؔ کچھ روز اورگنبد دل کو کسی دن بے صدا کر جاؤں گا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں