8 اشعار

بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

Bas ek baar kisi ne gale lagaya tha

بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

«بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھاپھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا

گلی میں لوگ بھی تھے میرے اس کے دشمن لوگوہ سب پہ ہنستا ہوا میرے دل میں آیا تھا

اس ایک دشت میں سو شہر ہو گئے آبادجہاں کسی نے کبھی کارواں لٹایا تھا

وہ مجھ سے اپنا پتا پوچھنے کو آ نکلےکہ جن سے میں نے خود اپنا سراغ پایا تھا

مرے وجود سے گلزار ہو کے نکلی ہےوہ آگ جس نے ترا پیرہن جلایا تھا

مجھی کو طعنۂ غارت گری نہ دے پیارےیہ نقش میں نے ترے ہاتھ سے مٹایا تھا

اسی نے روپ بدل کر جگا دیا آخرجو زہر مجھ پہ کبھی نیند بن کے چھایا تھا

ظفرؔ کی خاک میں ہے کس کی حسرت تعمیرخیال و خواب میں کس نے یہ گھر بنایا تھا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں