8 اشعار

رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا

Raat andheri hai aur koi jugnu nahin mil raha

رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا

«رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہادشت کیسا ہے یہ جس میں آہو نہیں مل رہا

جس سے ظاہر ہو اس کو خبر ہے مرے حال کیبات میں کوئی بھی ایسا پہلو نہیں مل رہا

کیا کہیں اور بھی کتنی چیزوں سے محروم ہوںصرف اتنا نہیں ہے کہ بس تو نہیں مل رہا

ایک ہاری ہوئی اپنی ہمت کی ہے جستجواور کھویا ہوا زور بازو نہیں مل رہا

اس ملاقات میں ایک ہونے کی خواہش نہ تھیاس جدائی میں رونے کو آنسو نہیں مل رہا

کیا ہوا تھی کہ لوگوں کو پتے سے بکھرا گئیسب پریشان ہیں کوئی یکسو نہیں مل رہا

اس قدر شیون و شور کچھ بے سبب تو نہیںکوئی دکھ ہے کہیں جس کا دارو نہیں مل رہا

زندگی ہے سمندر کے رحم و کرم پر ظفرؔکیسی کشتی ہے یہ جس کو چپو نہیں مل رہا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں