خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
کلام: ظفراقبال
خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کاکہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا
چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھیگزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کاکہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا
چمک اٹھے ہیں جو دل کے کلس یہاں سے ابھیگزر ہوا ہے خیالوں کی دیو داسی کا
بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گاشہر کو ہر ذائقے سے آشنا کر جاؤں گا
تو بھی ڈھونڈے گا مجھے شوق سزا میں ایک دنمیں بھی کوئی خوبصورت سی خطا کر جاؤں گا