اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرے
کلام: ظفراقبال
اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرےیہ جو حالات ہوئے جاتے ہیں بہتر میرے
وہ کوئی چاند کا ٹکڑا بھی نہیں تھا، لیکنچاندنی اُس کی بچھی رہتی ہے اندر میرے
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
اُس کا انکار بھی حق میں تھا سراسر میرےیہ جو حالات ہوئے جاتے ہیں بہتر میرے
وہ کوئی چاند کا ٹکڑا بھی نہیں تھا، لیکنچاندنی اُس کی بچھی رہتی ہے اندر میرے
گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارےمشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہمارے
بکھرے ہو کہاں اے خس و خاشاک ِ تمناغائب ہو کدھر اے سر و سامان ہمارے