7 اشعار

رخ زیبا ادھر نہیں کرتا

Rukh-e-zayba idhar nahin karta

رخ زیبا ادھر نہیں کرتا

«رخ زیبا ادھر نہیں کرتا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

رخ زیبا ادھر نہیں کرتاچاہتا ہے مگر نہیں کرتا

سوچتا ہے مگر سمجھتا نہیںدیکھتا ہے نظر نہیں کرتا

بند ہے اس کا در اگر مجھ پرکیوں مجھے در بدر نہیں کرتا

حرف انکار اور اتنا طویلبات کو مختصر نہیں کرتا

نہ کرے شہر میں وہ ہے تو سہیمہربانی اگر نہیں کرتا

حسن اس کا اسی مقام پہ ہےیہ مسافر سفر نہیں کرتا

جا کے سمجھائیں کیا اسے کہ ظفرؔتو بھی تو درگزر نہیں کرتا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں