5 اشعار

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

Yahan kisi ko bhi kuch hasb-e-aarzoo na mila

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

«یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

غزال اشک سر صبح دوب مژگاں پرکب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا

چمکتے چاند بھی تھے شہر شب کے ایواں میںنگار غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا

انہی کی رمز چلی ہے گلی گلی میں یہاںجنہیں ادھر سے کبھی اذن گفتگو نہ ملا

پھر آج مے کدۂ دل سے لوٹ آئے ہیںپھر آج ہم کو ٹھکانے کا ہم سبو نہ ملا

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں