خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کے
کلام: ظفراقبال
خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کےکام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کے
روک رکھنا تھا ابھی اور یہ آواز کا رسبیچ لینا تھا یہ سودا ذرا مہنگا کر کے
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کےکام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کے
روک رکھنا تھا ابھی اور یہ آواز کا رسبیچ لینا تھا یہ سودا ذرا مہنگا کر کے