رخ زیبا ادھر نہیں کرتا
کلام: ظفراقبال
رخ زیبا ادھر نہیں کرتاچاہتا ہے مگر نہیں کرتا
سوچتا ہے مگر سمجھتا نہیںدیکھتا ہے نظر نہیں کرتا
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
رخ زیبا ادھر نہیں کرتاچاہتا ہے مگر نہیں کرتا
سوچتا ہے مگر سمجھتا نہیںدیکھتا ہے نظر نہیں کرتا
رات اندھیری ہے اور کوئی جگنو نہیں مل رہادشت کیسا ہے یہ جس میں آہو نہیں مل رہا
جس سے ظاہر ہو اس کو خبر ہے مرے حال کیبات میں کوئی بھی ایسا پہلو نہیں مل رہا