6 اشعار

آنکھ کے کنارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

Aankh ke kinare par, kuch nahin tha ho sakta

آنکھ کے کنارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

«آنکھ کے کنارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

آنکھ کے کنارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتاآنسوؤں کے دھارےپر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

ڈوبتی ہوئی نبضیں، ڈوب ہی تو جانی تھیںہم تمہیں پکارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

حسرتِ محبت میں آپ کے بنا لمحےہم نے بھی گزارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

آپ نے خدا جانے کیوں نہ ہم کو اپنایاآپ تھے ہمارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

ہم بھی اور کیا کرتے، عمر کاٹ دی اپنیآپ کے سہارے ،پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

مانگ کر تمہارے دکھ اور اپنے سارے سکھہم نے تم پہ وارے پر، کچھ نہیں تھا ہو سکتا

— زین شکیل