7 اشعار

آنکھیں بھی تو بھر آتی ہیں اکثر ہی مسکانے سے

Aankhein bhi to bhar aati hain aksar hi muskaanay se

آنکھیں بھی تو بھر آتی ہیں اکثر ہی مسکانے سے

«آنکھیں بھی تو بھر آتی ہیں اکثر ہی مسکانے سے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

آنکھیں بھی تو بھر آتی ہیں اکثر ہی مسکانے سےماں کتنی خوش ہو جاتی ہے میرے گھر آ جانے سے

ذہن و دل کا گوشہ گوشہ کب تک تازہ دم رہتابہتر تھا تم خود آ جاتے یوں مجھ کو یاد آنے سے

سونا سونا آنگن تو یوں ہی کھانے کو دوڑے ہےسو دکھ بٹ جایا کرتے ہیں پیڑوں کو بتلانے سے

اب تو بنجر بنجر آنکھیں زیادہ چپ چپ رہتی ہیںدل رونے لگتا ہے اس کے یادوں میں آ جانے سے

اب تو اک مدت سے کوئی خوابوں میں بھی آیا نہہم بھی اب عاجز آئے ہیں شاموں کو گھر جانے سے

میری سانسوں کی جنبش سے تو بھی ڈر سا جا تا ہےمیں بھی ڈرتا رہتا ہوں اب تیرا دل بہلانے سے

میں یہ تم سے کہتا تھا ناں تم پاگل ہو جاؤ گےپاگل، پاگل ہی رہتا ہے پاگل کو سمجھانے سے

— زین شکیل