6 اشعار

جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائے

Jin par be samari ki tohmat lag jaaye

جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائے

«جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائےان پیڑوں کے چھاؤں کو دکھ ہوتے ہیں

بیٹے کے چہرے پر زردی کیوں چھائی؟کیسے کیسے ماؤں کو دکھ ہوتے ہیں

شہروں میں جا بسنے والے کیا جانیںان لوگوں کے گاؤں کو دکھ ہوتے ہیں

رستوں کی دشواری کیسے سمجھے گیچھالوں کے بھی پاؤں کو دکھ ہوتے ہیں

جانے کس کے غم میں بادل روتا ہےکیا پر درد گھٹاؤں کو دکھ ہوتے ہیں؟

عمریں گر بے جرم سزاؤں میں گزریںپھر تو صرف جزاؤں کو دکھ ہوتے ہیں

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں