9 اشعار

آنکھوں سے ہی بتلائیں گے ! جس کا قصّہ پوچھے گا

Aankhon se hi batlayenge! Jis ka qissa poochhega

آنکھوں سے ہی بتلائیں گے ! جس کا قصّہ پوچھے گا

«آنکھوں سے ہی بتلائیں گے ! جس کا قصّہ پوچھے گا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں سے ہی بتلائیں گے ! جس کا قصّہ پوچھے گا !ہم تو چُپ کے پِیر ہیں اب تُو ہم سے کیا کیا پوچھے گا ؟

رَگ رَگ اندر عشق ہے کتنا ؟ سب پیشانی جانتی ہے !کچی نیّت باندھنے والو ! تم کو سجدہ پوچھے گا !

سرخ آنکھوں پر بات تو ہو گی! دیکھو یار زمانہ ہے !جب بتلا نہیں سکتی ہو تو ! مت رو ! ورنہ پوچھے گا !

اتنی پردہ دار اذیت کیوں چپ رہ کر کاٹتے ہو ؟چاہے مجھ سے درد نہ پوچھے لیکن پردہ پوچھے گا

میں بھی خود ہی اک دن اپنا نام اور شکل گنوا دوں گاتُو بھی کون سا ان گلیوں میں آ کر میرا پوچھے گا

آپ ملے تو اس ملنے میں ہم یہ بات ہی بھول گئےاک دن آپ کا ہجر بھی ہم کو اچھا خاصا پوچھے گا

ہم سے ہمارا چھوڑ کے اِس کا، اُس کا، سب کا پوچھ لیاسوچ رہے ہیں اب وہ ہم سے جانے کس کا پوچھے گا

چھوڑ دِلا ! تُو اِن لوگوں کی باتوں سے بے چین نہ ہو !اِن کی آگے خیر نہیں ہے ! اِن کو اللہ پوچھے گا !

جس دن آپ نے اس دنیا سے دور کہیں جا بسنا ہےزین اسی دن سکھ بھی آپ کے گھر کا رستہ پوچھے گا !

— زین شکیل