9 اشعار

اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

Ab to ghar jaane pe dukh hota hai

اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

«اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

اب تو گھر جانے پہ دکھ ہوتا ہےیوں ٹھہر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

اتنا مانوس نہیں ہو جاتےپھر بچھڑ جانے پہ دکھ ہوتا ہے

وہ گلی اب بھی ہے ویسی لیکنبس گزر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

ایک دن ہو تو گزر بھی جائےروز مر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

اب یہ بچپن تو نہیں سو ہم کوایسے ڈر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

صاف گوئی تھی مناسب پھر بھیبس مُکر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

تم جہاں ہم سے ملا کرتے تھےاب ادھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

اس لئے پھول نہیں ہوتا میںبس بکھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

ہم تو مقتل بھی خوشی سے جائیںاب کدھر جانے پہ دکھ ہوتا ہے

— زین شکیل