8 اشعار

چار سو پھیلتا جا رہا ہے سفر، کیا کہوں اب تمہیں

Char su phailta ja raha hai safar, kya kahoon ab tumhein

چار سو پھیلتا جا رہا ہے سفر، کیا کہوں اب تمہیں

«چار سو پھیلتا جا رہا ہے سفر، کیا کہوں اب تمہیں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

چار سو پھیلتا جا رہا ہے سفر، کیا کہوں اب تمہیںچاند کھڑکی سے آتا نہیں اب نظر ، کیا کہوں اب تمہیں

اس نے پوچھا کہ کل شام کیسی اداسی تھی چھائی ہوئیکل ہوا جب تمہارے شہر سے گزر، کیا کہوں اب تمہیں

جس نے ہاتھوں میں ہاتھوں کو دے کر ہماری اٹھائی قسمسانحہ یہ ہوا کہ گیا وہ مُکر، کیا کہوں اب تمہیں

اب درختوں کے پتوں کی زردی پہ کیوں کالے بختوں کا غمکس لئے ہو گئی شاخ بھی در بدر، کیا کہوں اب تمہیں

رات ایسی کہ جیسے ہو دن کی وہ مجبور بیوہ کوئیدن پہ جیسے لگی ہو غموں کی مُہر ، کیا کہوں اب تمہیں

اس نےمجھ سے یہ پوچھا کہ مجھ سے محبت تو ہے نا تمہیںمیں نے اس سے کہا کہ مِرے ہم سفر، کیا کہوں اب تمہیں

تم وہی تھے ،مرے سنگ دنیا سے ڈرتے، جھجھکتے نہ تھےپھر اچانک گئے ساری دنیا سے ڈر، کیا کہوں اب تمہیں

یہ زمانہ مرے پاس آیا تو تھا، صرف جلدی میں تھامیں نے بھی کہہ دیا ، جاؤ پہلے گزر، کیا کہوں اب تمہیں

— زین شکیل