6 اشعار

آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتا

asmaanon se bulaya bhi nahin ja sakta

آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتا

«آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

آسمانوں سے بلایا بھی نہیں جا سکتااب ا سے حال سنایا بھی نہیں جا سکتا

وہ مناتا جو نہیں روٹھے ہوئے لوگوں کواس سے اب روٹھ کے جایا بھی نہیں جا سکتا

اس کو تاروں میں کوئی خاص نہیں دلچسپیچاند کو توڑ کے لایا بھی نہیں جا سکتا

جس کی تعبیر میں ہاتھوں میں لئے پھرتا ہوںاب اسے خواب میں لایا بھی نہیں جا سکتا

اُس سے ہم ترکِ تعلق بھی نہیں کر سکتےبات کو اور بڑھایا بھی نہیں جا سکتا

تم نے تاخیر بہت کی ہے صدا دینے میںمجھ سے اب لوٹ کے آیا بھی نہیں جا سکتا

— زین شکیل