7 اشعار

بس گئی پھر دل کی بستی خواب میں

Bas gai phir dil ki basti khwab mein

بس گئی پھر دل کی بستی خواب میں

«بس گئی پھر دل کی بستی خواب میں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

بس گئی پھر دل کی بستی خواب میںدیکھ لی جب ایک ہستی خواب میں

نیند کی وادی تو جل تھل ہوگئیآنکھ اب کتنا برستی خواب میں

ایک کو میلے سے لے آیا تھا میںایک گڑیا ہے ترستی خواب میں

کتنی مہنگی پڑ گئی ہے جاگ کرتھی یہ دنیا کتنی سستی خواب میں

اب بلندی پر پہنچ جاؤں گا میںدیکھ لی ہے میں نے پستی خواب میں

وقت کی بے درد ناگن تُو کبھیکاش مجھ کو صرف ڈستی خواب میں

ہو گیا میں جاگ کر کتنا غنیکس لئے تھی تنگ دستی خواب میں؟

— زین شکیل