8 اشعار

جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہے

Jab bhi koi baat chhupana padti hai

جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہے

«جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

جب بھی کوئی بات چھپانا پڑتی ہےتب بھی ساری بات سنانا پڑتی ہے

تم بھی تو بس شام کا وعدہ کرتے ہوہم کو دن میں شام سجانا پڑتی ہے

بادل چھت سے روز ہی روٹھا رہتا ہےمجھ کو خود برسات چرانا پڑتی ہے

جب سے وہ شوقین ہوا انگاروں کاپانی میں بھی آگ جلانا پڑتی ہے

تنہائی کو بات بتاتا ہوں کچھ اورلوگوں کو کچھ اور بتانا پڑتی ہے

وہ جو مجھ کو یاد کبھی نہ ہو پائیاب مجھ کو وہ بات بھلانا پڑتی ہے

ان گالوں کی پیاس بجھانے کی خاطرآنکھوں سے اک بوند گرانا پڑتی ہے

پہلے تجھ کو خواب میں دیکھا کرتا ہوںپھر خود کو تعبیر بتانا پڑتی ہے

— زین شکیل