6 اشعار

چلتا پھرتا ہوا وہ تم نے جو غم دیکھا تھا

Chalta phirta hua woh tum ne jo gham dekha tha

چلتا پھرتا ہوا وہ تم نے جو غم دیکھا تھا

«چلتا پھرتا ہوا وہ تم نے جو غم دیکھا تھا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

چلتا پھرتا ہوا وہ تم نے جو غم دیکھا تھاکون کہتا ہے کہ تم نے مجھے کم دیکھا تھا

آئینہ آج اٹھایا تو بہت روتے رہےاپنی صورت کی جگہ ہم نے الم دیکھا تھا

آج کی رات وحی درد بھری اترے گیآج پھر آپکی آنکھوں کو جو نم دیکھا تھا

اب جو ہر بات پہ روتے ہوئے ہنس دیتا ہےجانے اس شخص نے کس طرز کا غم دیکھا تھا

تھام کر ہاتھ سلیقے سے گرا دیتے تھےشہر والوں کا کئی بار کرم دیکھا تھا

عشق میں دو کا تصور نہیں ہو سکتا ناںہم نے اک ذات میں اک ذات کو ضم دیکھا تھا

— زین شکیل