6 اشعار

ہر طرف ان کے جلووں کی برسات ہے، واہ کیا بات ہے!

Har taraf un ke jalwon ki barsaat hai, wah kya baat hai!

ہر طرف ان کے جلووں کی برسات ہے، واہ کیا بات ہے!

«ہر طرف ان کے جلووں کی برسات ہے، واہ کیا بات ہے!» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ہر طرف ان کے جلووں کی برسات ہے، واہ کیا بات ہے!آج چھٹنے کو پھر ابرِ ظلمات ہے، واہ کیا بات ہے!

حالتِ وجد میں پھر مری ذات ہے، واہ کیا بات ہے!ان کے ہونٹوں پہ بس اک مری بات ہے، واہ کیا بات ہے!

آج پھر خواب میں ان کے ملنے کا مجھ کو اشارہ ملابرگذیدہ بہت آج کی رات ہے، واہ کیا بات ہے!

گر مزاجِ محبت میں تلخی کا عنصر ذرا بھی نہ ہواہلِ دل کے لیے یہ بھی سوغات ہے، واہ کیا بات ہے!

بال شانوں پہ بکھرے ہوئے،آنکھ کجلائی، اُف کیا بنے!حُسن بیٹھا لگا کر نئی گھات ہے، واہ کیا بات ہے!

دیر تک میری نظمیں پڑھیں اس نے پھر جھوم کر یہ کہاہائے کیا بات ہے! یار کیا بات ہے! واہ کیا بات ہے!

— زین شکیل