9 اشعار

حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں

Hairat-e-ishq se niklun to kidhar jaaun main

حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں

«حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

حیرتِ عشق سے نکلوں تو کدھر جاؤں میںایک صورت نظر آتی ہے جدھر جاؤں میں

یہ بھی ممکن ہے کہ ہر سانس سزا ہو جائےہو بھی سکتا ہے جدائی میں سنور جاؤں میں

یوں مسلسل مجھے تکنے کی نہ عادت ڈالویہ نہ ہو آنکھ جو جھپکو تو بکھر جاؤں میں

کیا ترے دل پہ قیامت بھی بھلا ٹوٹے گی؟گر تجھے دیکھ کے چپ چاپ گزر جاؤں میں

دیکھو انجام تو دینے ہیں امورِ دنیاجی تو کرتا ہے ترے پاس ٹھہر جاؤں میں

تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدنتُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں

جس قدر بگڑا ہوا ہوں میں یہی سوچتا ہوںکب ترے ہاتھ لگوں اور سُدھر جاؤں میں

کون ہے ، بول مرا، میری اداسی ! تجھ بنتُو بھی گر پاس نہ آئے تو کدھر جاؤں میں

یہ مری عمر فقط چاہ میں تیری گزرےمر نہ جاؤں جو ترے دل سے اتر جاؤں میں

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں