8 اشعار

چاند کو اور بھی نکھار ملے

Chand ko aur bhi nikhaar mile

چاند کو اور بھی نکھار ملے

«چاند کو اور بھی نکھار ملے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے عروج فیاض نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

چاند کو اور بھی نکھار ملےوہ اگر تجھ سے ایک بار ملے

آج کا دن عذاب تھا سچ میںآج تو تم بھی بے قرار ملے

شہر میں بھی عجب اداسی تھیسارے چہرے ہی اشکبار ملے

کون حیرت سجائے آنکھوں میںکون اب تجھ سے بار بار ملے

میں جو اپنے وجود سے گزروںتو مجھے میرے آر پار ملے

میری حسرت ہے جب ملوں تجھ سےتو مجھے محوِ انتظار ملے

کاش دریا مجھے عبور کرےاور تُو مجھ کو میرے پار ملے

سبز جھولے کی لاج رکھ سائیاںمجھ کو کاسے میں تیرا پیار ملے

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں