6 اشعار

رات گھر میں اتر گئی ہو گی

Raat ghar mein utar gai ho gi

رات گھر میں اتر گئی ہو گی

«رات گھر میں اتر گئی ہو گی» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

رات گھر میں اتر گئی ہو گیوہ بھی دانستہ ڈر گئی ہو گی

کیسا ماتم بپا ہے سینے میںآرزو کوئی مر گئی ہو گی

میرے اجزا سمیٹنے والیمیرے اندر بکھر گئی ہو گی

اب اسے یاد میں نہیں ہوں گااب طبیعت بھی بھر گئی ہوگی

جانتا ہوں مرے بہانہ جُوپھر قیامت گزر گئی ہو گی

دل کی بستی اجاڑنے والوچھوڑ بھی دو اجڑ گئی ہو گی

— زین شکیل