6 اشعار

دشتِ غم سے گزر کے آیا تھا

Dasht-e-gham se guzar ke aaya tha

دشتِ غم سے گزر کے آیا تھا

«دشتِ غم سے گزر کے آیا تھا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

دشتِ غم سے گزر کے آیا تھایار میں بن سنور کے آیا تھا

ایک مجھ جلد باز کی خاطرتو بھی کتنا ٹھہر کے آیا تھا

پھر سے مقتل میں لے گئے مجھ کودار سے ہی اتر کے آیا تھا

تجھ سے ملنے اناؤں سے اپنیآج میں لڑ جھگڑ کے آیا تھا

روٹھنے والے اک تری خاطرمیں کسی سے بچھڑ کے آیا تھا

کس طرح اس کے سنگ چلتا میںوہ زمانے سے ڈر کے آیا تھا

— زین شکیل