6 اشعار

ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتے

Hum ne socha tumhein har ghadi aur pal, aur kya sochte

ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتے

«ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ہم نے سوچا تمہیں ہر گھڑی اور پل، اور کیا سوچتےاور کرنے کو کچھ بھی نہ تھا آج کل ، اور کیا سوچتے

آج سوچا تو آنکھوں کو بہنے سے روکا گیا ہی نہیںپھر یہ سوچا کہ اب تم کو سوچیں گے کل، اور کیا سوچتے

میں نے تم سے فقط ساتھ چلنے کا پوچھا تھا اس واسطےمیں نے سوچا تھا تم بھی کہو گے کہ ،چل، اور کیا سوچتے

پہلے سوچا کہ اُس سے مقدر تو مل جائے گا ،ورنہ ہمخود ہی دیں گے نصیبوں پہ پھر خاک مَل، اور کیا سوچتے

تم نے بھی سوچ رکھا تھا شامِ عزاداری ء عشق کاہم بھی سورج کے ہی ساتھ جائیں گے ڈھل ، اور کیا سوچتے

تم نے سوچے بنا ایک پل میں ہی صدیاں بھلا کیسے دیں؟ہم نے تم کو ہی سوچا تھا ہر ایک پل، اور کیا سوچتے

— زین شکیل