7 اشعار

چپ رہ کر بھی یار پکارا جا سکتا ہے

chup rah kar bhi yaar pukara ja sakta hai

چپ رہ کر بھی یار پکارا جا سکتا ہے

«چپ رہ کر بھی یار پکارا جا سکتا ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

چپ رہ کر بھی یار پکارا جا سکتا ہےان آنکھوں میں چاند اتارا جا سکتا ہے

ساری لہریں تیرے صدقے دے سکتا ہوںسارا دریا تجھ پر وارا جا سکتا ہے

پھر تم سے ہی ایک محبت ہو سکتی ہےپھر سے تم کو جیت کے ہارا جا سکتا ہے

تجھ کو تکنے اور تجھے تکتے رہنے سےآنکھوں سے اس بار نظارا جا سکتا ہے

اس کے عارض دیکھ کے میں نے اکثر سوچامکھ چندا کا اور نکھارا جا سکتا ہے

اشکوں میں موجود مسافر شاید تجھ کوآنکھوں کے اُس پار اتارا جا سکتا ہے

تو بچھڑا ہے اور میں اتنا ہی سمجھا ہوںاب تیرے بن وقت گزارا جا سکتا ہے

— زین شکیل