8 اشعار

درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیں

Dar-e-sakha bhi abhi tak tera khula hi nahin

درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیں

«درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

درِ سخا بھی ابھی تک ترا کھلا ہی نہیںہمارے لب پہ تو یوں بھی کوئی دعا ہی نہیں

ہمیں تو ایک اسی کی طلب ہی جاتی نہیںکہ جسکا ایک محبت پہ اکتفا ہی نہیں

ابھی یہ لوگ مگن ہیں حروف تولنے میںابھی تو شہر نے لہجہ مرا سنا ہی نہیں

مجھے تو یوں بھی مری جان سے عزیز ہو تمیہ بات الگ ہے کوئی تم سا دلبربا ہی نہیں

بس ایک چھوٹا سا آنگن ، تمہاری یاد اور میںمرے مکاں میں اداسی کی انتہا ہی نہیں

بچھڑ کے مجھ سے وہ شاید بہت اداس رہےکبھی میں پہلے اسے چھوڑ کر گیا ہی نہیں

وہ چاہتا ہے کہ بس اس کی دسترس میں رہوںاسی کے لب پہ مرے نام کی صدا ہی نہیں

اُسے اب اپنے ہی ہاتھوں گنوا کے سوچتے ہیںہمارا اُس کے علاوہ تو کوئی تھا ہی نہیں

— زین شکیل