6 اشعار

دل و نگاہ میں جو اس کی بال تھا تو کیا ہوا

Dil o nigah mein jo us ki baal tha to kya hua

دل و نگاہ میں جو اس کی بال تھا تو کیا ہوا

«دل و نگاہ میں جو اس کی بال تھا تو کیا ہوا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

دل و نگاہ میں جو اس کی بال تھا تو کیا ہواچلو اگر اسے کوئی ملال تھا تو کیا ہوا

سخی تو جانتا تھا اس سے مانگ کیا رہا ہوں میںلبوں پہ کوئی اور ہی سوال تھا تو کیا ہوا

ہنسی خوشی تمہارا درد بھی گلے لگا لیاجو عمر بھر کے واسطے وبال تھا تو کیا ہوا

ترے سوا کسی کی سمت دیکھنا نہیں مجھےوہ کوئی دوسرا جو با کمال تھا تو کیا ہوا

چلو یہ زعم ہے ہمیں کہ بس اسی کے ہی رہےاسے جو سارے شہر کا خیال تھا تو کیا ہوا

میں تھک کےہی گرا تھا ، ہار تو نہیں تھی مان لیجو تھوڑی دیر کے لیے نڈھال تھا تو کیا ہوا

— زین شکیل