9 اشعار

درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا

Dard ki ot mein palkon ko jhuka kar rona

درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا

«درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

درد کی اوٹ میں پلکوں کو جھکا کر رونارونے والوں کو بہر طور ہنسا کر رونا

درد کو بانٹنے آ جائیں یہ جھونکے سارےیوں مرا نام ہواؤں کو بتا کر رونا

لوگ لے لے کے مرا نام ستائیں گے ناںآنسوؤں کی کوئی تمہید بنا کر رونا

اوس بکھری ہوئی پھولوں پہ بھلی لگتی ہےاپنی آنکھوں کو بھی راہوں میں بچھا کر رونا

کوئی بھی دردادھر سے نہ اُدھر ہو پائےآنسوؤں کی ذرا ترتیب لگا کر رونا

لوگ ہر بات پہ محشر سا اُٹھا دیتے ہیںتم کبھی حال نہ اوروں کو سنا کر رونا

ایسے تنہائی میں مت رو کے گنواؤ مجھ کومیں جو آ جاؤں تو سینے سے لگا کر رونا

بھیجنا ہاتھ پرندوں کے، غموں کے نوحےیوں مرا سوگ ہواؤں میں منا کر رونا

زینؔ اس واسطے ٹھہری نہیں حالت اپنیایک ہی شخص کو خوابوں میں بُلا کر رونا

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں