7 اشعار

محبت کے سبھی موسم گزرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

Mohabbat ke sabhi mausam guzarte ja rahe hain tum chale aao

محبت کے سبھی موسم گزرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

«محبت کے سبھی موسم گزرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

محبت کے سبھی موسم گزرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤسہارے، سب ستارے چاند سے گھبرا رہے ہیں تم چلے آؤ

کہا بھی تھا بچھڑ جانے سے اچھا تھا کبھی نہ تم ملے ہوتےسنو! اب درد سارے طنز کرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

تمہارے ہجر کو آباد رکھا ہے مری آنکھوں نے رو رو کرمرے آنسو حدوں کو پار کرتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

ہوائیں سخت بے چینی کے عالم میں مرے چہرے کو چھوتی ہیںمجھے اک ایک کر کے درد ملتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

مجھے تم نے کہا تھا روح سے اب تو جدائی ہو نہیں سکتیسو میری روح پر پیوند لگتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

ہم اُس کے شہر کی ساری ہی دیواروں پہ یہ پیغام لکھ آئےتمہارے شہر سے ہم ہاتھ ملتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

بھلا میں کس طرح اب زینؔ غیروں سے گلہ کرنے چلا جاؤںمرے اپنے بھی اب چہرہ بدلتے جا رہے ہیں تم چلے آؤ

— زین شکیل