13 اشعار

درد سے رشتہ نبھانے کے لیے

Dard se rishta nibhane ke liye

درد سے رشتہ نبھانے کے لیے

«درد سے رشتہ نبھانے کے لیے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

درد سے رشتہ نبھانے کے لیےرو پڑا تم کو ہنسانے کے لیے

یاد مجھ کو کیا نہیں کرنا پڑاایک تم کو بھول جانے کے لیے

میں نے سورج پر سیاحی پھینک دیموم کا اک گھر بچانے کے لیے

آ گئی گرمی مرے جذبات میںدیپ چاہت کا جلانے کے لیے

آپ کا ملنا ضروری ہے بہتپھر ہمیں ہم سے ملانے کے لیے

رابطہ کرنا پڑا ہے نیند سےخواب آنکھوں میں سجانے کے لیے

آ قسم سے لوٹ کر آؤں گا میںآ مجھے واپس بلانے کے لیے

رنج میں بھی یاد کرتا ہوں تمہیںبس ذرا سا مسکرانے کے لیے

یہ جو مجھ دیوار میں درہے کھلاراستہ ہے تیرے آنے کے لیے

وہ یقیناً کُن کہیں گے دیکھناعرض کی تھی لب ہلانے کے لیے

بخت میں اک وصل تھا لکھا ہواہجر کو سینے لگانے کے لیے

عشق تو ہوتا نہیں ہے دوستوجیتنے یا ہار جانے کے لیے

اب تو بس یہ سوچتا ہوں رات دنکیوں گئے تم یاد آنے کے لیے

— زین شکیل