8 اشعار

ہوا کے لمس دیکھا کر، گنا نہ کر

Hawa ke lams dekha kar, guna na kar

ہوا کے لمس دیکھا کر، گنا نہ کر

«ہوا کے لمس دیکھا کر، گنا نہ کر» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہوا کے لمس دیکھا کر، گنا نہ کرمری تحریر کے آنسو چنا نہ کر

میں تیری آنکھ کے تیور سمجھتا ہوںفقط خاموش بیٹھا کر، کہا نہ کر

اداسی کے سوا کیا ہے،مرے دل میںیہ اک بے چین جنگل ہے، گلہ نہ کر

ترا مل کر بچھڑنا مار دیتا ہےمجھے تُو خواب میں بھی اب ملا نہ کر

مرے جو درد ہیں یونہی مہکنے دےلگا تو شوق سے مرہم، سہا نہ کر

تجھے اب ماتمی چہروں سے الفت کیوں؟تجھے میں نے کہابھی تھا، ہنسا نہ کر

تری آواز گھائل ہی نہ ہو جائےصدائیں دشت میں مجھ کو دیا نہ کر

مری آوارگی تجھ کو نہ لے ڈوبےتومیرے ساتھ بیٹھا کر، چلا نہ کر

— زین شکیل