7 اشعار

اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے

Is tarah tere khayalon mein raha karna hai

اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے

«اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

اس طرح تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہےہاتھ میرا ترے بالوں میں رہا کرنا ہے

اب کوئی داد وستد بھی تو نہیں ہے ہم میںتم نے کب تک یوں سوالوں میں رہا کرنا ہے

اب بھی وہ پیچ وہی خم ہیں تری زلفوں کےہم نے اب خیر اجالوں میں رہا کرنا ہے

آبلہ پائی بھی منزل پہ ہی کام آئے گیکوئی قصہ مرے چھالوں میں رہا کرنا ہے

تجھ کو خوشیوں نے بھی اک روز بھلا دینا ہےمیں نے ہر غم کے حوالوں میں رہا کرنا ہے

میرے خوش فہم تجھے اب یہ غلط فہمی ہےمیں نے کب تیرے خیالوں میں رہا کرنا ہے!

تو نے اب بھی مرے دن مجھ سے چرا لینے ہیںمیں نے اب بھی تری چالوں میں رہا کرنا ہے

— زین شکیل