7 اشعار

دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ

Dasht o veeran mein kahin kutiya basaaye hue log

دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ

«دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگدیکھ کس حال میں رہتے ہیں ستائے ہوئے لوگ

بارشیں یوں بھی ہر اک زخم ہرا کرتی ہیںیاد آتے ہیں نگاہوں سے بہائے ہوئے لوگ

منتظر اب یہاں خواہش ہے نہ میّت کوئیاس قدر دیر سے لوٹے ہیں بلائے ہوئے لوگ

کیسے جائیں گے بھلا اب وہ تسلی کے بغیرتیرے ملنے کو بڑی دور سے آئے ہوئے لوگ

خاک بس خاک میں ملنےکے لیے ہوتی ہےہم ہیں اس واسطے مٹی سے بنائے ہوئے لوگ

آنسوئوں کو تو بھرم بھی نہیں رکھنا آیامیری آنکھوں سے نکل آئے چھپائے ہوئے لوگ

زین ہنس ہنس کے اسی بات کو رو دیتا ہوںمجھ سے روٹھے ہوئے رہتے ہیں منائے ہوئے لوگ

— زین شکیل