9 اشعار

کیا آج مرا کیا کل سائیاں

Kya aaj mara kya kal saiyaan

کیا آج مرا کیا کل سائیاں

«کیا آج مرا کیا کل سائیاں» زین شکیل کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «خاک ہوتی ہے محبت میں اڑانے کے لیے (زین شکیل صاحب کے ساتھ)» میں 6 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

کیا آج مرا کیا کل سائیاںاب سنگ مرے تُو چل سائیاں

اک چاہ میں تیری برسے تھےدو نین ہوئے اب تھل سائیاں

رکھ ہاتھ مسیحائی والایہ ہجر بڑا بے کَل سائیاں

اک دھوپ غموں کی پھیلی ہےیہ روپ نہ جائے جَل سائیاں

اُس پار سکوں کا ڈیرہ ہےاِس پار فقط ہلچل سائیاں

کیوں آنکھ میں ساون رُت پھیلیکیوں برس پڑا بادل سائیاں

آ ہاتھ پکڑ دکھ زادوں کاسکھ چین ملے دو پل سائیاں

اک عمر اداسی میں ڈوبیاک درد کا ہے جنگل سائیاں

اے یار کرے گا اِک تجھ بناب کون مصیبت حل سائیاں

— زین شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں