7 اشعار

دھڑکنوں کا سینے میں کب سے بین جاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

Dhadkano ka seene mein kab se bain jaari hai, kitni sogwari hai!

دھڑکنوں کا سینے میں کب سے بین جاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

«دھڑکنوں کا سینے میں کب سے بین جاری ہے، کتنی سوگواری ہے!» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

دھڑکنوں کا سینے میں کب سے بین جاری ہے، کتنی سوگواری ہے!غم کی سسکیاں لے کر بے کلی پکاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

جب بھی وہ ملے مجھ سے حال چال کے بدلے پوچھتا ہے بس اتنایار یہ بتاؤ تم، کتنی بےقراری ہے؟ کتنی سوگواری ہے؟

اک ملنگ نے مجھ سے یہ کہا کہ لوگوں میں آیا جایا کر پاگل!جزوِ لازمی ہے ناں یہ جو دنیا داری ہے، کتنی سوگواری ہے!

کوئی کیسے سمجھے گا کس طرح گزرتے ہیں رات دن اذیت میںزینتِ مقدر ہے جتنی آہ و زاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

شام ہے، اداسی ہے، روح بھی تو پیاسی ہے، بات گو ذرا سی ہےچاند ہے گواہ کیسے میں نے شب گزاری ہے، کتنی سوگواری ہے

میں تو خود پریشاں ہوں جو بھی ہو گیا رخصت لوٹ کر نہیں آیااک مرا اکیلا پن اور ہجر جاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

اِس کے پاس آنے سے ہاتھ بھی ملانے سے ڈر رہے تھے سارے لوگوہ جو اپنے اندر تک ہم نے خود اتاری ہے، کتنی سوگواری ہے!

— زین شکیل