7 اشعار

کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا!

Kuchh bhi ho sakte the, taskheer nahin hona tha!

کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا!

«کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا!» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا!ہم کو یوں درد کی تصویر نہیں ہونا تھا!

وہ تو تم آئے تو تھوڑا سا یقیں پختہ ہواہم نے تو قائلِ تقدیر نہیں ہونا تھا!

حوصلہ ہار کے جینا بھی کوئی جینا ہےگر ہی پڑنا تھا تو تعمیر نہیں ہونا تھا!

پاگلا !دیکھتے رہنا تھا روانی کو فقطایسے، دریا سے بغلگیر نہیں ہونا تھا!

چاہتے ہم تو تجھے روک ہی لیتے لیکنیوں ترے پائوں کی زنجیر نہیں ہونا تھا!

میں جو رانجھا نہ ہوا اس پہ گلہ کیوں لوگواُس نے ویسے بھی مری ہیر نہیں ہونا تھا!

جیسے اُس شخص کی، اشکوں سے کہانی لکھیزین یوں اُس نے تو تحریر نہیں ہونا تھا

— زین شکیل