9 اشعار

سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھا

Sisak raha tha mira ek sawal, tu chup tha

سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھا

«سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھا» زین شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

سسک رہا تھا مِرا اک سوال، تُو چپ تھارہا تھا دل میں یہی اک ملال، تُو چپ تھا

اداس کرتی گئیں وہ تری اداس آنکھیںمیں پوچھتا بھی رہا حال چال، تُو چپ تھا

میں جب بلند رہا تو بھی ہمکلام رہاسو مجھ پہ آن پڑا جب زوال، تُو چپ تھا

جو تیرا ثانی مجھے مل گیا تو شکوہ کیوں؟میں ڈھونڈتا تھا تری جب مثال، تُو چپ تھا

اب اپنے درد کا کیونکر ڈھنڈورا پیٹتا ہے؟میں کر رہا تھا جو تب اندمال، تُو چپ تھا

مرا دریدہ بدن دیکھ کر نہ اب روناکہا تھا کر لے مری دیکھ بھال، تُو چپ تھا

مِرے بدن کے تجھے زخم اب ستاتے ہیںمیں دکھ کی اوڑھے ہوئے جب تھا شال، تُو چپ تھا

تجھے ہی شام و سحر کا حساب دیتے ہوئےگزر گیا تھا مرا ایک سال، تُو چپ تھا

یہ تیرے اور مِرے ربط کے مٹانے کوزمانہ چلتا رہا ایک چال، تُو چپ تھا

— زین شکیل